اُڈپی :15/اگست(ایس او نیوز)ملک میں مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف متعصانہ پالیسی مٰیں اضافہ ہوتانظر آرہاہے۔ ملک کی 11ریاستوں کے دیہی علاقوں کے اسکولوں میں اس کے متعلق کئے گئے سروے کے مطابق دلتوں کے بچے آج بھی کلاس کی پیچھے والی قطار میں بیٹھتے ہیں۔ اساتذہ ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دئیے جاتے تھے، ان باتوں کا اظہار مشہور مفکر، کالم نگار، ادیب اور سماجی کارکن ہرش مندر نے کیا۔
وہ یہاں منی پال یونیورسٹی کے ڈاکٹر ٹی ایم اے پائی بھارتیہ ودیا پیٹھ اور اے جی ایم کالج کی طرف سے مشترکہ طورپربروز سنیچر ایم جی ایم کالج کے نئے رویندرا منٹپ میں ’’پیدائشی تعصب‘‘عنوان پر اپنا مقالہ پیش کررہے تھے۔ اپنے مقالے میں ہرش مندر نے کہاکہ سروے کے دوران پتہ چلاہے کہ سوچھ بھارت ابھیان میں دیہی اسکولوں کے ٹائلٹ کی صفائی کے لئے آج بھی دلت طلبا کا استعمال کئے جانے کا پتہ چلا ہے۔ بھارتیوں کے ذہنو ں میں عدم مساوات بہت مضبوطی کے ساتھ پیوست ہوگیاہے۔ تعصب ، تفریق ملک کے کروڑوں بچے پیداکے لئے قسمت بن گئی ہے۔ عام بچوں کی طرح ان بچوں کو ظلم سے تحفظ، مناسب تعلیم اور صحت نہیں دستیاب ہونے کی بات کہی ۔عالمی سطح پر آبادی کے لحاظ سے ہندوستان دوسرے نمبر پر آتاہے، اسی طرح بھارت کے ہر تین بچوں میں سے ایک بچہ غذا کی قلت کا شکار ہے، تین میں سے ایک بھوک سے اور بغیر چھت کے زندگی گزارتاہے۔ ملک کا صدر مقام صرف دہلی میں 60سے 70000بچے ہر رات فٹ پاتھ پر سونے کا منظر ملک کی بھیانک تصویر پیش کرتاہے۔ شہروں کے پچھڑے علاقوں کے جھونپڑیوں اور گندے علاقوں میں بسنے والے خاندانوں کی لڑکیاں جنسی ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہیں۔ اس سے باہرآنے کا ان کے پاس کوئی راستہ بھی نہیں ہونے کا خیال ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ہم اپنے مضامین اور کتابوں کے ذریعے ایسے بچوں کے متعلق کام کرنے ، ان کی درد بھری زندگی پر روشنی ڈالیں۔ آج ملک میں اعلیٰ اور متوسط طبقہ ، نچلے طبقے کے متعلق نظرا ندازی کو اپنایا ہواہے۔ ہمیں آج بھی مہا بھارت کےکئی ایکلویا ملتے ہیں، لیکن ان کے درمیان نربھیا ، کنہیا کمار، روہیت ویمولا جیسے روشنی کی کرن کی طرح امید جگاتے ہیں۔ ان سب کو دیکھنے سے ملک کے مستقبل کے متعلق امید جگتی ہے۔ منی پال یونیورسٹی کے ڈاکٹر ٹی ایم اے پائی ادبی بنچ کی صدر وئیدیہی نے خطاب کیا۔ ایم جی ایم کالج کی پرنسپال پروفیسر کوسوما کامت موجود تھیں۔ منی پال یونیورسٹی گاندھی شانتی پیٹھ کے ڈائرکٹر پروفیسر وردیش ہیرے گنگے نے استقبال کرنے کے ساتھ ساتھ شکریہ اداکیا۔